Monday, November 29, 2010

سرکار دو عالم کی ۹ تلواریں اور انکا تعارف

سرکار دو عالم کی ۹ تلواریں اور انکا تعارف

البتّار


یہ تلوار سرکارِ دو عالم نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کو یثرب کے یہودی قبیلے (بنو قینقاع ) سے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ اس تلوار کو (سیف الانبیاء) نبیوں کی تلوار بھی کہا جاتا ہے۔ اس تلوار پر حضرت داؤودؑ، سلیمانؑ، ہارونؑ، یسعؑ، زکریاؑ، یحیٰؑ، عیسیٰؑ اور محمدؐ کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔ یہ تلوار حضرت داؤودؑ کو اس وقت مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی کم تھی۔ اس تلوار پر ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤودؑ کو جالوت کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے جو کہ اس تلوار کا اصلی مالک تھا۔ مزید تلوار پر ایک ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو بتراء شہر کے قدیمی عرب باشندے (البادیون) اپنی ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔ بعض روایات میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ یہی وہ تلوار ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں واپس آنے کے بعد اللہ کے دشمن ’کانے دجال‘ کا خاتمہ کریں گے اور دشمنانِ اسلام سے جہاد کریں گے۔اس تلوار کی لمبائی 101 سینٹی میٹر ہے ۔اور آجکل یہ تلوار ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں محفوظ ہے۔اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔


المأثور


یہ تلوار حضور پاک ﷺ کو اپنے والد ماجد کی وراثت کے طور پر نبوت کےاعلان سے قبل ملی تھی۔ یہ تلوار ایک اور نام ’مأثور الفجر‘ سے بھی مشہور ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ کی معیت میں جب یثرب کی طرف حجرت فرمائی تو یہی تلوار آپ ﷺ کے پاس تھی۔ بعد میں آپ ﷺ نے یہ تلوار بمع دیگر چند االالتِ حرب حضرت علی کرم اللہ وجہ کو عطا فرما دیئے تھے۔ اس تلوار کا دستہ سونے کا بنا ہوا ہے اور دونوں اطراف سے مڑا ہوا ہے۔ مزید خوبصورتی کیلئے اس پر زمرد اور فیروز جڑے ہوئے ہیں۔ اس تلوار کی لمبائی 99 سینٹی میٹر ہے ہے ۔اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں محفوظ ہے۔اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔

الحتف

یہ تلوار بھی نبی پاک ﷺ کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ یہ تلوار حضرت داؤودؑ کے مبارک ہاتھوں سے بنی ہوئی ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے لوہے کے سازوسامان خاص طور پر ڈھالیں، تلواریں اور دیگر آلالتِ حرب بنانے میں خصوصی مہارت عطا فرمائی تھی۔ حضرت داؤودؑ نے اس تلوار کو ’بتّار‘ سے ملتا جلتا لیکن سائز مین اُس سے بڑا بنایا۔ یہ تلوار یہودیوں کے قبیلے لاوی کے پاس اپنے آباء و اجداد بنو اسرائیک کی نشانیوں کے طور پر نسل در نسل محفوظ چلی آ رہی تھی حتٰی کہ آخر میں یہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کےمبارک ہاتھوں میں مالِ غنیمت کے طور پر پونہچی۔ اس تلوار کی لمبائی 112 سینٹی میٹر اور چوڑائی 8 سینٹی میٹر ہے۔اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں محفوظ ہے۔اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔


الذوالفقار

یہ تلوار ہمارے پیارے نبی پاک ﷺ کو غزوہِ بدر میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ تاریخی مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعد میں آپ ﷺ نے یہ تلوار حضرت علیؓ کو عطا فرما دی تھی۔ غزوہِ اُحد میں حضرت علیؓ اسی تلوار کے ساتھ میدانِ جنگ میں اُترے اور مشرکینِ مکہ کے کئی بڑے بڑے سرداروں کو واصلِ جہنم کیا۔ اکثر حوالے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ تلوار خاندانِ حضرت علیؓ میں باقی رہی۔ اس تلوار کی وجہِ شہرت یا تو دو دھاری ہونے کی وجہ سے ہے یا پھر اس پر بنے ہوئے ہوئے دو نوک نقش و نگار کی وجہ سے ہے۔ اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں محفوظ ہے۔اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔

الرسّوب

یہ تلوار ہمارے پیارے نبی پاک ﷺ کی ملکیتی 9 تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ خاندانِ رسول ﷺ میں یہ تلوار بالکل ویسے ہی محفوظ منتقل ہوتی ریہ جس طرح ’تابوت العہد‘ بنو اسرئیل میں خاندان در خاندان محفوظ رہا اور نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ تلوار پر سنہری دائرے بنے ہوئے ہیں جن پر حضرت جعفر الصادق رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی کنندہ ہے۔



اس تلوار کی لمبائی 140 سینٹی میٹر ہے ۔



اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں محفوظ ہے۔



اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔


المِخذم

اس تلوار کے حوالے سے دو مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔

اول یہ تلواررسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو عطا فرمائی اور بعد میں اولادِ علی میں وراثت کے طور پر نسل در نسل چلتی رہی۔ دوئم یہ تلوار سیدنا علیؓ کو اہلِ شام نکے ساتھ ایک معرکہ میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ اس تلوار پر ’زین الدین العابدین‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔ اس تلوار کی لمبائی 97 سینٹی میٹر ہے۔ اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں محفوظ ہے۔اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔

القضیب








یہ تلوارنحیف اور بہت کم چوڑائی والی ہے بلکہ اسی طرح جس طرح کسی تنگ راستے کی مثال دی جاتی ہے۔ یہ تلوار سرکارِ دو عالم ﷺ کے ہمراہ دفاع یا رفیقِ سفر کے طور پر تو ضرور موجود رہی مگر اس تلوار سے کبھی کوئی جنگ نہیں لڑی گئی۔ تلوار پر چاندی کے ساتھ ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔کوئی ایسا تاریخی حوالہ اس بات کی طرف اشارہ نہیں دیتا کہ تلوار کسی طور سے بھی آپ ؐ کی حیاتِ طیبہ میں کسی جنگ میں استعمال ہوئی۔ تلوار ہمیشہ آپ ﷺ کے گھر میں موجود رہی۔ لیکن فاطمینوں کے عہدِ خلافت میں اس تلوار کو استعمال کیا گیا۔



اس تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اور اس تلوار کی میان کسی جانور کی کھال کی بنی ہوئی ہے۔



اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں محفوظ ہے۔



اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔



العضب




یہ تلوار (العضب یعنی تیز دھار والی) پیارے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو آپؐ کے صحابی حضرت سعد بن عبادہ الانصاریؓ نے غزوہ اُحد سے قبل تحفہ دی تھی۔ آپؐ نے اُحد والے دن یہی تلوار حضرت ابو دجانہ الانصاریؓ کو عطا فرما دی تاکہ وہ میدانِ جنگ میں اُتر کر اللہ اور اُس کے رسولؐ کے دشمنوں پر اسلام کی قوت و عظمت کا مظاہرہ کریں۔
آجکل یہ تلوار مصر کے شہر قاہرہ کی مشہور جامع مسجد الحسین بن علی میں محفوظ ہے۔
اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔


القلعی







لفظ قلعی کا تعلق یا تو شام کے کسی علاقہ سے دکھائی دیتا ہے یا پھر ہندوستان اور چین کے کسی سرحدی علاقے سے ہے۔ جب کہ ایک طبقہ کے علماء یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ کیونکہ قلعی ایک قسم کی دھات کا نام ہے جو دیگر دھاتی چیزوں کو چمکانے یا ان پر پالش چڑھانے کے کام آتی ہے اس تلوار کی وجہ تسمیہ ہو سکتی ہے۔ یہ تلوار ان تین تلواروں میں سے ایک ہے جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے جنگ میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی تھیں۔

اسکے علاوہ اس تلوار کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ حضور پاک ؐ کے دادا حضرت عبد المطلب نے اس تلوار اور سونے کے بنے ہوئے دو ہرنوں کو زمزم کے کنویں سے نکلوایا تھا جو کہ قبیلہ جرہم الحمیریہ (حضرت اسماعیلؑ کا سسرالی قبیلہ) نے یہاں پر ایک زمانہ قبل دفن کئے تھے۔ بعد میں حضرت عبد المطلب نے اس تلوار کو بمعہ دیگر قیمتی سامان (سونا) بیت اللہ میں حفاظت سے رکھوا دیا ۔ تلوار پر دستہ کے قریب یہ الفاظ کنندہ ہیں (ھٍذہ السیف المشرفیی لبیت محمد رسول اللہ : یہ تلوار محمد رسول اللہ ﷺ کے گھرانے کی عزت کی علامت ہے)۔ تلوار کی خوبصورت میان اسکو دوسری تلواروں میں ایک نمایاں مقام دیتی ہے۔

اس تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے ۔

اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں محفوظ ہے۔

اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں

Quran o Hadees


Sunday, November 28, 2010

الْمُتَّقِينَ

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمـَنِ الرَّحِيمِ

بَلَى مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى فَإِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
-76:03

Quran o Hadees


Sunday, November 14, 2010

Tuesday, November 2, 2010

حدیث

حدیث
آدم بن ابی ایاس، شعبہ، قتادہ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چت کبرے دنبے ذبح کئے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں ان دونوں کے پہلو پر رکھا بسم اللہ اور تکبیر کہی، پھر ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 521
53 - قربانیوں کا بیان : (28)
اس شخص کا بیان جو اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرے


Narrated Anas:


The Prophet slaughtered two rams, black and white in color (as sacrifices), and I saw him putting his foot on their sides and mentioning Allah's Name and Takbir (Allahu Akbar). Then he slaughtered them with his own hands.





















Sahih Bukhari Hadith number 521

حدیث

حدیث
آدم بن ابی ایاس، شعبہ، قتادہ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چت کبرے دنبے ذبح کئے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں ان دونوں کے پہلو پر رکھا بسم اللہ اور تکبیر کہی، پھر ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔



صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 521

53 - قربانیوں کا بیان : (28)

اس شخص کا بیان جو اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرے





Narrated Anas:

The Prophet slaughtered two rams, black and white in color (as sacrifices), and I saw him putting his foot on their sides and mentioning Allah's Name and Takbir (Allahu Akbar). Then he slaughtered them with his own hands.



Sahih Bukhari Hadith number 521

Sunday, October 31, 2010

فضائل قرآن

احمد بن جعفر معقری، نضر بن محمد، عکرمہ بن عمار، شداد بن عبد اللہ، ابوعمار، یحیی بن ابی کثیر، ابوامامہ، واثلہ، انس، عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی راستے پر نہیں ہیں اور وہ سب لوگ بتوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھپ کر رہ رہے ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مسلط تھی پھر میں نے ایک طریقہ اختیار کیا جس کے مطابق میں مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نبی ہوں، میں نے عرض کیا نبی کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اللہ تعالی نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس چیز کا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ صلہ رحمی کرنا اور بتوں کو توڑنا اور یہ کہ اللہ تعالی کو ایک ماننا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا میں نے عرض کیا کہ اس مسئلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام راوی نے کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے میں نے عرض کیا کہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے اس وقت تم اپنے گھر جاؤ پھر جب سنو کہ میں ظاہر (غالب) ہوگیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی طرف چلا گیا اور رسول اللہ مدینہ منورہ میں آگئے تو میں اپنے گھر والوں میں ہی تھا اور لوگوں سے خبریں لیتا رہتا تھا اور پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ منورہ والوں سے میری طرف کچھ آدمی آئے تو میں نے ان سے کہا کہ اس طرح کے جو آدمی مدینہ منورہ میں آئے ہیں وہ کیسے ہیں تو انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں ان کی قوم کے لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے تو میں مدینہ منورہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پہچانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں تم تو وہی ہو جس نے مجھ سے مکہ میں ملاقات کی تھی میں نے عرض کیا جی ہاں پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کچھ سکھایا ہے مجھے اس کی خبر دیجئے اور میں اس سے جاہل ہوں مجھے نماز کے بارے میں خبر دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور نکل کر بلند ہو جائے کیونکہ جب سورج نکلتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی فرشتے دیں گے اور حاضر ہوں گے یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے پھر نماز سے رکے رہو کیونکہ اس وقت جہنم جھونکی جاتی ہے پھر جب سایہ آجائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر کیے جائیں گے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں میں نے عرض کیا وضوء کے بارے میں بھی کچھ بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں جو وضو کے پانی سے کلی کرے اور پانی ناک میں ڈالے اور ناک صاف کرے مگر یہ کہ اس کے منہ اور نتھنوں کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں کہ پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں کے ساتھ لگ کر پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے تو دونوں پاؤں کے گناہ انگلیوں کے پوروں کی طرف سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں پھر اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اللہ کی حمد وثناء اور اسکی بزرگی اور اس کے شایان شان بیان کرے اور اپنے دل کو خالص اللہ کے لئے فارغ کرلے تو وہ آدمی اپنے گناہوں سے اس طرح پاک وصاف ہو جاتا ہے جس طرح کہ آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے چنانچہ عمرو بن عبسہ نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عمرو بن عبسہ دیکھو! کیا کہہ رہے ہو کیا ایک ہی جگہ میں آدمی کو اتنا ثواب مل سکتا ہے تو حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے اے ابوامامہ میں بڑی عمر والا ہوگیا ہوں اور میری ہڈیاں نرم ہوگئی ہیں اور میری موت قریب آگئی ہے تو اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہاں تک کہ سات مرتبہ بھی سنتا تو میں کبھی بھی اس حدیث کو بیان نہ کرتا لیکن میں نے تو اس حدیث کو اس سے بھی بہت زیادہ مرتبہ سنا ہے۔




صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1924

8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)

عمر و بن عبسہ کے اسلام لانے کا بیان





'Amr b. 'Abasa Sulami reported: I in the state of the Ignorance (before embracing Islam) used to think that the people were in error and they were not on anything (which may be called the right path) and worshipped the idols. In the meanwhile I heard of a man in Mecca who was giving news (on the basis of his prophetic knowledge) ; so I sat on my ride and went to him. The Messenger of Allah (may peace be upon him) was at that time hiding as his people had made life hard for him. I adopted a friendly attitude (towards the Meccans and thus managed) to enter Mecca and go to him (the Holy Prophet) and I said to him: Who are you? He said: I am a Prophet (of Allah). I again said: Who is a Prophet? He said: (I am a Prophet in the sense that) I have been sent by Allah. I said: What is that which you have been sent with? He said: I have been sent to join ties of relationship (with kindness and affection), to break the Idols, and to proclaim the oneness of Allah (in a manner that) nothing is to be associated with Him. I said: Who is with you in this (in these beliefs and practices)? He said: A free man and a slave. He (the narrator) said: Abu Bakr and Bilal were there with him among those who had embraced Islam by that time. I said: I intend to follow you. He said: During these days you would not be able to do so. Don't you see the (hard) condition under which I and (my) people are living? You better go back to your people and when you hear that I have been granted victory, you come to me. So I went to my family. I was in my home when the Messenger of Allah (may peace be upon him) came to Medina. I was among my people and used to seek news and ask people when he arrived in Medina. Then a group of people belonging to Yathrib (Medina) came. I said (to them): How is that person getting on who has come to Medina? They said: The people are hastening to him, while his people (the polytheists of Mecca) planned to kill him, but they could not do so. I (on hearing It) came to Medina and went to him and said: Messenger of Allah, do you recognise me? He said: Yes, you are the same man who met me at Mecca. I said: It is so. I again said: Prophet of Allah, tell me that which Allah has taught you and which I do not know, tell me about the prayer.

He said: Observe the dawn prayer, then stop praying when the sun is rising till it Is fully up, for when it rises it comes up between the horns of Satan, and the unbelievers prostrate themselves to it at that time. Then pray, for the prayer is witnessed and attended (by angels) till the shadow becomes about the length of a lance; then cease prayer, for at that time Hell is heated up. Then when the shadow moves forward, pray, for the prayer is witnessed and attended by angels, till you pray the afternoon prayer, then cease prayer till the sun sets, for it sets between the horns of devil, and at that time the unbelievers prostrate themselves before it. I said: Apostle of Allah, tell me about ablution also. He said: None of you who uses water for ablution and rinses his mouth, snuffs up water and blows it, but the sins of his face, and his mouth and his nostrils fall out. When he washes his face, as Allah has commanded him, the sins of his face fall out from the end of his beard with water. Then (when) he washes his forearms up to the elbows, the sins of his arms fall out along with water from his finger-tips. And when he wipes his head, the sins of his head fall out from the points of his hair along with water. And (when) he washes his feet up to the ankles, the sins of his feet fall out from his toes along with water. And if he stands to pray and praises Allah, lauds Him and glorifies Him with what becomes Him and shows wholehearted devotion to Allah, his sins would depart leaving him (as innocent) as he was on the day his mother bore him. 'Amr b. 'Abasa narrated this hadith to Abu Umama, a Companion of the Messenger of Allah (may peace be upon him), and Abu Umama said to him: 'Amr b. 'Abasa, think what you are saying that such (a great reward) is given to a man at one place (only in the act of ablution and prayer). Upon this 'Amr said: Abu Umama, I have grown old and my bones have become weak and I am at the door of death; what impetus is there for me to attribute a lie to Allah and the Messenger of Allah (may peace be upon him)? Had I heard it from the Messenger of Allah (may peace be upon him) once, twice, or three times (even seven times), I would have never narrated it, but I have heard it from him on occasions more than these.

Friday, October 29, 2010

حدیث

عبداللہ بن یوسف، مالک، سمی (ابوبکر بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام) ابوصالح سمان، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا، پھر نماز کیلئے چلا گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی، اور جو شخص دوسری گھڑی میں چلا، تو گویا اس نے ایک گائے کی قربانی کی، اور تیسری گھڑی میں چلا تو گویا ایک سینگ والا دنبہ قربانی کیا، اور جو چوتھی گھڑی میں چلا تو اس نے گویا ایک مرغی قربانی کی، اور جو پانچویں گھڑی میں چلا تو اس نے گویا ایک انڈہ اللہ کی راہ میں دیا، پھر جب امام خطبہ کیلئے نکل جاتا ہے تو فرشتے ذکر سننے کیلئے حاضر ہوجاتے ہیں۔




صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 835

11 - جمعہ کا بیان : (64)

جمعہ کی فضیلت کا بیان





Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Any person who takes a bath on Friday like the bath of Janaba and then goes for the prayer (in the first hour i.e. early), it is as if he had sacrificed a camel (in Allah's cause); and whoever goes in the second hour it is as if he had sacrificed a cow; and whoever goes in the third hour, then it is as if he had sacrificed a horned ram; and if one goes in the fourth hour, then it is as if he had sacrificed a hen; and whoever goes in the fifth hour then it is as if he had offered an egg. When the Imam comes out (i.e. starts delivering the Khutba), the angels present themselves to listen to the Khutba."





--

Thursday, October 28, 2010

اللہ اور بندے کا باہمی تعلق

اللہ اور بندے کا باہمی تعلق


ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

اللہ پاک فرماتا ہے۔ ’’جس کسی نے میرے ولی سے دشمنی کی میں اسے لڑائی کا چیلنج

دیتا ہوں ۔۔۔ میرا جو بندہ میری کسی محبوب چیز کے ذریعے میرا قرب چاہتا ہے تو

وہ فرائض ہیں جو میں نے اس پر عائد کئے ہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے مسلسل

میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس

سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔ اس کی

آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا

ہے اور اس کی ٹانگ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کچھ

مانگے تو میں ضرور دوں گا اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں ضرور اسے اپنی

پناہ میں لے لوں گا۔‘‘ (بخاری

Wednesday, October 27, 2010

حدیث

یحیی بن یحیی، مالک، محمد بن یحیی بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔




صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1914

8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے





Abu Huraira is reported to have said that the Messenger of Allah (may peace be upon him) prohibited to observe prayer after the 'Asr prayer till the sun is set, and after the dawn till the sun rises.





--