احمد بن جعفر معقری، نضر بن محمد، عکرمہ بن عمار، شداد بن عبد اللہ، ابوعمار، یحیی بن ابی کثیر، ابوامامہ، واثلہ، انس، عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی راستے پر نہیں ہیں اور وہ سب لوگ بتوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھپ کر رہ رہے ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مسلط تھی پھر میں نے ایک طریقہ اختیار کیا جس کے مطابق میں مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نبی ہوں، میں نے عرض کیا نبی کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اللہ تعالی نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس چیز کا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ صلہ رحمی کرنا اور بتوں کو توڑنا اور یہ کہ اللہ تعالی کو ایک ماننا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا میں نے عرض کیا کہ اس مسئلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام راوی نے کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے میں نے عرض کیا کہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے اس وقت تم اپنے گھر جاؤ پھر جب سنو کہ میں ظاہر (غالب) ہوگیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی طرف چلا گیا اور رسول اللہ مدینہ منورہ میں آگئے تو میں اپنے گھر والوں میں ہی تھا اور لوگوں سے خبریں لیتا رہتا تھا اور پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ منورہ والوں سے میری طرف کچھ آدمی آئے تو میں نے ان سے کہا کہ اس طرح کے جو آدمی مدینہ منورہ میں آئے ہیں وہ کیسے ہیں تو انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں ان کی قوم کے لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے تو میں مدینہ منورہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پہچانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں تم تو وہی ہو جس نے مجھ سے مکہ میں ملاقات کی تھی میں نے عرض کیا جی ہاں پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کچھ سکھایا ہے مجھے اس کی خبر دیجئے اور میں اس سے جاہل ہوں مجھے نماز کے بارے میں خبر دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور نکل کر بلند ہو جائے کیونکہ جب سورج نکلتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی فرشتے دیں گے اور حاضر ہوں گے یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے پھر نماز سے رکے رہو کیونکہ اس وقت جہنم جھونکی جاتی ہے پھر جب سایہ آجائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر کیے جائیں گے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں میں نے عرض کیا وضوء کے بارے میں بھی کچھ بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں جو وضو کے پانی سے کلی کرے اور پانی ناک میں ڈالے اور ناک صاف کرے مگر یہ کہ اس کے منہ اور نتھنوں کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں کہ پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں کے ساتھ لگ کر پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے تو دونوں پاؤں کے گناہ انگلیوں کے پوروں کی طرف سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں پھر اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اللہ کی حمد وثناء اور اسکی بزرگی اور اس کے شایان شان بیان کرے اور اپنے دل کو خالص اللہ کے لئے فارغ کرلے تو وہ آدمی اپنے گناہوں سے اس طرح پاک وصاف ہو جاتا ہے جس طرح کہ آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے چنانچہ عمرو بن عبسہ نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عمرو بن عبسہ دیکھو! کیا کہہ رہے ہو کیا ایک ہی جگہ میں آدمی کو اتنا ثواب مل سکتا ہے تو حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے اے ابوامامہ میں بڑی عمر والا ہوگیا ہوں اور میری ہڈیاں نرم ہوگئی ہیں اور میری موت قریب آگئی ہے تو اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہاں تک کہ سات مرتبہ بھی سنتا تو میں کبھی بھی اس حدیث کو بیان نہ کرتا لیکن میں نے تو اس حدیث کو اس سے بھی بہت زیادہ مرتبہ سنا ہے۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1924
8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)
عمر و بن عبسہ کے اسلام لانے کا بیان
'Amr b. 'Abasa Sulami reported: I in the state of the Ignorance (before embracing Islam) used to think that the people were in error and they were not on anything (which may be called the right path) and worshipped the idols. In the meanwhile I heard of a man in Mecca who was giving news (on the basis of his prophetic knowledge) ; so I sat on my ride and went to him. The Messenger of Allah (may peace be upon him) was at that time hiding as his people had made life hard for him. I adopted a friendly attitude (towards the Meccans and thus managed) to enter Mecca and go to him (the Holy Prophet) and I said to him: Who are you? He said: I am a Prophet (of Allah). I again said: Who is a Prophet? He said: (I am a Prophet in the sense that) I have been sent by Allah. I said: What is that which you have been sent with? He said: I have been sent to join ties of relationship (with kindness and affection), to break the Idols, and to proclaim the oneness of Allah (in a manner that) nothing is to be associated with Him. I said: Who is with you in this (in these beliefs and practices)? He said: A free man and a slave. He (the narrator) said: Abu Bakr and Bilal were there with him among those who had embraced Islam by that time. I said: I intend to follow you. He said: During these days you would not be able to do so. Don't you see the (hard) condition under which I and (my) people are living? You better go back to your people and when you hear that I have been granted victory, you come to me. So I went to my family. I was in my home when the Messenger of Allah (may peace be upon him) came to Medina. I was among my people and used to seek news and ask people when he arrived in Medina. Then a group of people belonging to Yathrib (Medina) came. I said (to them): How is that person getting on who has come to Medina? They said: The people are hastening to him, while his people (the polytheists of Mecca) planned to kill him, but they could not do so. I (on hearing It) came to Medina and went to him and said: Messenger of Allah, do you recognise me? He said: Yes, you are the same man who met me at Mecca. I said: It is so. I again said: Prophet of Allah, tell me that which Allah has taught you and which I do not know, tell me about the prayer.
He said: Observe the dawn prayer, then stop praying when the sun is rising till it Is fully up, for when it rises it comes up between the horns of Satan, and the unbelievers prostrate themselves to it at that time. Then pray, for the prayer is witnessed and attended (by angels) till the shadow becomes about the length of a lance; then cease prayer, for at that time Hell is heated up. Then when the shadow moves forward, pray, for the prayer is witnessed and attended by angels, till you pray the afternoon prayer, then cease prayer till the sun sets, for it sets between the horns of devil, and at that time the unbelievers prostrate themselves before it. I said: Apostle of Allah, tell me about ablution also. He said: None of you who uses water for ablution and rinses his mouth, snuffs up water and blows it, but the sins of his face, and his mouth and his nostrils fall out. When he washes his face, as Allah has commanded him, the sins of his face fall out from the end of his beard with water. Then (when) he washes his forearms up to the elbows, the sins of his arms fall out along with water from his finger-tips. And when he wipes his head, the sins of his head fall out from the points of his hair along with water. And (when) he washes his feet up to the ankles, the sins of his feet fall out from his toes along with water. And if he stands to pray and praises Allah, lauds Him and glorifies Him with what becomes Him and shows wholehearted devotion to Allah, his sins would depart leaving him (as innocent) as he was on the day his mother bore him. 'Amr b. 'Abasa narrated this hadith to Abu Umama, a Companion of the Messenger of Allah (may peace be upon him), and Abu Umama said to him: 'Amr b. 'Abasa, think what you are saying that such (a great reward) is given to a man at one place (only in the act of ablution and prayer). Upon this 'Amr said: Abu Umama, I have grown old and my bones have become weak and I am at the door of death; what impetus is there for me to attribute a lie to Allah and the Messenger of Allah (may peace be upon him)? Had I heard it from the Messenger of Allah (may peace be upon him) once, twice, or three times (even seven times), I would have never narrated it, but I have heard it from him on occasions more than these.
Sunday, October 31, 2010
Friday, October 29, 2010
حدیث
عبداللہ بن یوسف، مالک، سمی (ابوبکر بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام) ابوصالح سمان، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا، پھر نماز کیلئے چلا گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی، اور جو شخص دوسری گھڑی میں چلا، تو گویا اس نے ایک گائے کی قربانی کی، اور تیسری گھڑی میں چلا تو گویا ایک سینگ والا دنبہ قربانی کیا، اور جو چوتھی گھڑی میں چلا تو اس نے گویا ایک مرغی قربانی کی، اور جو پانچویں گھڑی میں چلا تو اس نے گویا ایک انڈہ اللہ کی راہ میں دیا، پھر جب امام خطبہ کیلئے نکل جاتا ہے تو فرشتے ذکر سننے کیلئے حاضر ہوجاتے ہیں۔
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 835
11 - جمعہ کا بیان : (64)
جمعہ کی فضیلت کا بیان
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Any person who takes a bath on Friday like the bath of Janaba and then goes for the prayer (in the first hour i.e. early), it is as if he had sacrificed a camel (in Allah's cause); and whoever goes in the second hour it is as if he had sacrificed a cow; and whoever goes in the third hour, then it is as if he had sacrificed a horned ram; and if one goes in the fourth hour, then it is as if he had sacrificed a hen; and whoever goes in the fifth hour then it is as if he had offered an egg. When the Imam comes out (i.e. starts delivering the Khutba), the angels present themselves to listen to the Khutba."
--
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 835
11 - جمعہ کا بیان : (64)
جمعہ کی فضیلت کا بیان
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Any person who takes a bath on Friday like the bath of Janaba and then goes for the prayer (in the first hour i.e. early), it is as if he had sacrificed a camel (in Allah's cause); and whoever goes in the second hour it is as if he had sacrificed a cow; and whoever goes in the third hour, then it is as if he had sacrificed a horned ram; and if one goes in the fourth hour, then it is as if he had sacrificed a hen; and whoever goes in the fifth hour then it is as if he had offered an egg. When the Imam comes out (i.e. starts delivering the Khutba), the angels present themselves to listen to the Khutba."
--
Thursday, October 28, 2010
اللہ اور بندے کا باہمی تعلق
اللہ اور بندے کا باہمی تعلق
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
اللہ پاک فرماتا ہے۔ ’’جس کسی نے میرے ولی سے دشمنی کی میں اسے لڑائی کا چیلنج
دیتا ہوں ۔۔۔ میرا جو بندہ میری کسی محبوب چیز کے ذریعے میرا قرب چاہتا ہے تو
وہ فرائض ہیں جو میں نے اس پر عائد کئے ہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے مسلسل
میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس
سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔ اس کی
آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا
ہے اور اس کی ٹانگ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کچھ
مانگے تو میں ضرور دوں گا اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں ضرور اسے اپنی
پناہ میں لے لوں گا۔‘‘ (بخاری
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
اللہ پاک فرماتا ہے۔ ’’جس کسی نے میرے ولی سے دشمنی کی میں اسے لڑائی کا چیلنج
دیتا ہوں ۔۔۔ میرا جو بندہ میری کسی محبوب چیز کے ذریعے میرا قرب چاہتا ہے تو
وہ فرائض ہیں جو میں نے اس پر عائد کئے ہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے مسلسل
میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس
سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔ اس کی
آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا
ہے اور اس کی ٹانگ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کچھ
مانگے تو میں ضرور دوں گا اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں ضرور اسے اپنی
پناہ میں لے لوں گا۔‘‘ (بخاری
Wednesday, October 27, 2010
حدیث
یحیی بن یحیی، مالک، محمد بن یحیی بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1914
8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
Abu Huraira is reported to have said that the Messenger of Allah (may peace be upon him) prohibited to observe prayer after the 'Asr prayer till the sun is set, and after the dawn till the sun rises.
--
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1914
8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
Abu Huraira is reported to have said that the Messenger of Allah (may peace be upon him) prohibited to observe prayer after the 'Asr prayer till the sun is set, and after the dawn till the sun rises.
--
Tuesday, October 26, 2010
حدیث
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، حضرت عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ نافع بن حارث نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عسفان میں ملاقات کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں مکہ کا امیر مقرر کرنے کا حکم دیا ہوا تھا آپ نے فرمایا کہ تم نے مکہ میں کسے امیر بنایا ہے؟ تو اس نے عرض کیا کہ ابن ابزی کو، آپ نے پوچھا کہ ابزی کون آدمی ہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ ہمارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے آپ نے فرمایا کہ تو نے ایک غلام کو ان کا امیر بنا دیا ہے؟ اس نے کہا کہ وہ اللہ کی کتاب کا قاری ہے اور اس کے احکامات پر عمل بھی کرتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1891 حدیث مرفوع مکررات 5 متفق علیہ 2
8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)
قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ اللہ تعالی اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے (یعنی اسے خوش رکھے) جس نے ہم سے کوئی چیز (بات) سنی اور پھر بالکل اسی طرح دوسروں تک پہنچا دی جس طرح سنی تھی
'Amir b. Wathila reported that Nafi' b. 'Abd al-Harith met 'Umar at 'Usfan and 'Umar had employed him as collector in Mecca. He (Hadrat 'Umar) said to him (Nafi'): Whom have you appointed as collector over the people of the valley? He said: Ibn Abza. He said: Who is Ibn Abza? He said: He is one of our freed slaves. He (Hadrat 'Umar) said: So you have appointed a freed slave over them. He said: He is well versed In the Book of Allah. the Exalted and Great, and he is well versed In the commandments and injunctions (of the Shari'ah). 'Umar said: So the Holy Prophet (may peace be upon him) said: By this Book, Allah would exalt some peoples and degrade others.
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1891 حدیث مرفوع مکررات 5 متفق علیہ 2
8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)
قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ اللہ تعالی اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے (یعنی اسے خوش رکھے) جس نے ہم سے کوئی چیز (بات) سنی اور پھر بالکل اسی طرح دوسروں تک پہنچا دی جس طرح سنی تھی
'Amir b. Wathila reported that Nafi' b. 'Abd al-Harith met 'Umar at 'Usfan and 'Umar had employed him as collector in Mecca. He (Hadrat 'Umar) said to him (Nafi'): Whom have you appointed as collector over the people of the valley? He said: Ibn Abza. He said: Who is Ibn Abza? He said: He is one of our freed slaves. He (Hadrat 'Umar) said: So you have appointed a freed slave over them. He said: He is well versed In the Book of Allah. the Exalted and Great, and he is well versed In the commandments and injunctions (of the Shari'ah). 'Umar said: So the Holy Prophet (may peace be upon him) said: By this Book, Allah would exalt some peoples and degrade others.
حدیث
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، وکیع، ابوبکر، وکیع، اعمش، حضرت ابووائل سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمٰن! آپ اس حرف کو کیسے پڑھتے ہیں الف کے ساتھ یا یا کے ساتھ؟ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِنٍ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تو نے اس حرف کے علاوہ پورا قرآن یاد کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ میں مفصل کی ساری سورتیں ایک ہی رکعت میں پڑھتا ہوں، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ شعر کی طرح تو جلدی جلدی پڑھتا ہوگا بہت سے لوگ ایسے قرآن پڑھتے ہیں کہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا لیکن قرآن دل میں اتر جائے اور اس میں راسخ ہو جائے تو پھر نفع دیتا ہے نماز میں سب سے افضل ارکان رکوع اور سجود ہیں اور میں ان نظائر میں سے جانتا ہوں کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت عبداللہ کھڑے ہوئے حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیچھے گئے پھر وہ تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے انہوں نے اس چیز کی خبر دی ہے، ابن منیر نے اپنی روایت میں کہا کہ نبی بجیلہ کا ایک آدمی حضرت عبداللہ کی خدمت میں آیا اور نہیک بن سنان نہیں کہا۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1902
8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)
قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں
Abu Wa'il reported that a person named Nabik b. Sinan came to Abdullah (b. Mas'ud) and said: Abu 'Abd al-Rahman, how do you recite this word (alif) or (ya)? Would you read It as: min ma'in ghaira asin or au min ma'in ghaira yasin. (al-Qur'an, xlvii. 15)? 'Abdullah said: You (seem to) have memorised the whole of the Qur'an except this. He (again) said: I recite all the mufassal surahs in one rak'ah. Upon this 'Abdullah said: (You must have been reciting It) hastily like the recitation of poetry. Verily. there are people who recite the Qur'an, but it does not go down beyond their collar bones. It is (a fact with the Qur'an) that it is beneficial only when it settles in the heart and is rooted deeply in it. The best of (the acts) in prayer are bowing and prostration. I am quite aware of the occasions when the Messenger of Allah (may peace be upon him) combined together two surahs in every rak'ah. 'Abdullah then stood up and went out with 'Alqama following in his footstep. He said Ibn Numair had told him that the narration was like that:" A person belonging to Banu Bajila came to 'Abdullah," and he did not mention (the name of) Nahik b. Sinan.
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1902
8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)
قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں
Abu Wa'il reported that a person named Nabik b. Sinan came to Abdullah (b. Mas'ud) and said: Abu 'Abd al-Rahman, how do you recite this word (alif) or (ya)? Would you read It as: min ma'in ghaira asin or au min ma'in ghaira yasin. (al-Qur'an, xlvii. 15)? 'Abdullah said: You (seem to) have memorised the whole of the Qur'an except this. He (again) said: I recite all the mufassal surahs in one rak'ah. Upon this 'Abdullah said: (You must have been reciting It) hastily like the recitation of poetry. Verily. there are people who recite the Qur'an, but it does not go down beyond their collar bones. It is (a fact with the Qur'an) that it is beneficial only when it settles in the heart and is rooted deeply in it. The best of (the acts) in prayer are bowing and prostration. I am quite aware of the occasions when the Messenger of Allah (may peace be upon him) combined together two surahs in every rak'ah. 'Abdullah then stood up and went out with 'Alqama following in his footstep. He said Ibn Numair had told him that the narration was like that:" A person belonging to Banu Bajila came to 'Abdullah," and he did not mention (the name of) Nahik b. Sinan.
Thursday, October 21, 2010
قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
احمد بن عبدالرحمن بن وہب، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، ابوالرجال محمد بن عبدالرحمن، عمرة بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک سریہ میں امیر بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں قرات ختم کر کے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) بھی پڑھتے تھے جب وہ لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پوچھو کہ وہ اس طرح کیوں کرتا تھا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ وہ اسطرح کیوں کرتا تھا تو اس نے کہا اس سورة میں رحمن (اللہ جل جلالہ) کی صفات بیان کی گئی ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ میں اسے پڑھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس آدمی سے کہہ دو کہ اللہ تعالی بھی اس سے محبت کرتا ہے۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1884 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 2 بدون مکرر
8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)
قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
'A'isha reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) sent a man in charge of an expedition and he would recite for his Companions during their prayer, ending (recitation) with:" Say, He is God, One." When they returned mention was made of it to the Messenger of Allah (may peace be upon him). He (the Holy Prophet) told them to ask him why he had done like that. So they asked him and he said: Verily, it is an attribute of the Compassionate One, and (for this reason) I love to recite it. The Messenger of Allah (may peace be upon him) thereupon said: Inform him that Allah loves him.
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1884 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 2 بدون مکرر
8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)
قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
'A'isha reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) sent a man in charge of an expedition and he would recite for his Companions during their prayer, ending (recitation) with:" Say, He is God, One." When they returned mention was made of it to the Messenger of Allah (may peace be upon him). He (the Holy Prophet) told them to ask him why he had done like that. So they asked him and he said: Verily, it is an attribute of the Compassionate One, and (for this reason) I love to recite it. The Messenger of Allah (may peace be upon him) thereupon said: Inform him that Allah loves him.
Subscribe to:
Comments (Atom)




















































