Friday, October 29, 2010

حدیث

عبداللہ بن یوسف، مالک، سمی (ابوبکر بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام) ابوصالح سمان، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا، پھر نماز کیلئے چلا گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی، اور جو شخص دوسری گھڑی میں چلا، تو گویا اس نے ایک گائے کی قربانی کی، اور تیسری گھڑی میں چلا تو گویا ایک سینگ والا دنبہ قربانی کیا، اور جو چوتھی گھڑی میں چلا تو اس نے گویا ایک مرغی قربانی کی، اور جو پانچویں گھڑی میں چلا تو اس نے گویا ایک انڈہ اللہ کی راہ میں دیا، پھر جب امام خطبہ کیلئے نکل جاتا ہے تو فرشتے ذکر سننے کیلئے حاضر ہوجاتے ہیں۔




صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 835

11 - جمعہ کا بیان : (64)

جمعہ کی فضیلت کا بیان





Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Any person who takes a bath on Friday like the bath of Janaba and then goes for the prayer (in the first hour i.e. early), it is as if he had sacrificed a camel (in Allah's cause); and whoever goes in the second hour it is as if he had sacrificed a cow; and whoever goes in the third hour, then it is as if he had sacrificed a horned ram; and if one goes in the fourth hour, then it is as if he had sacrificed a hen; and whoever goes in the fifth hour then it is as if he had offered an egg. When the Imam comes out (i.e. starts delivering the Khutba), the angels present themselves to listen to the Khutba."





--

Thursday, October 28, 2010

اللہ اور بندے کا باہمی تعلق

اللہ اور بندے کا باہمی تعلق


ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

اللہ پاک فرماتا ہے۔ ’’جس کسی نے میرے ولی سے دشمنی کی میں اسے لڑائی کا چیلنج

دیتا ہوں ۔۔۔ میرا جو بندہ میری کسی محبوب چیز کے ذریعے میرا قرب چاہتا ہے تو

وہ فرائض ہیں جو میں نے اس پر عائد کئے ہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے مسلسل

میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس

سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔ اس کی

آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا

ہے اور اس کی ٹانگ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کچھ

مانگے تو میں ضرور دوں گا اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں ضرور اسے اپنی

پناہ میں لے لوں گا۔‘‘ (بخاری

Wednesday, October 27, 2010

حدیث

یحیی بن یحیی، مالک، محمد بن یحیی بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔




صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1914

8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے





Abu Huraira is reported to have said that the Messenger of Allah (may peace be upon him) prohibited to observe prayer after the 'Asr prayer till the sun is set, and after the dawn till the sun rises.





--

Tuesday, October 26, 2010

Ahadeeth














Ahadeeth


















Hadeeth








حدیث

زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، حضرت عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ نافع بن حارث نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عسفان میں ملاقات کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں مکہ کا امیر مقرر کرنے کا حکم دیا ہوا تھا آپ نے فرمایا کہ تم نے مکہ میں کسے امیر بنایا ہے؟ تو اس نے عرض کیا کہ ابن ابزی کو، آپ نے پوچھا کہ ابزی کون آدمی ہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ ہمارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے آپ نے فرمایا کہ تو نے ایک غلام کو ان کا امیر بنا دیا ہے؟ اس نے کہا کہ وہ اللہ کی کتاب کا قاری ہے اور اس کے احکامات پر عمل بھی کرتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔




صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1891 حدیث مرفوع مکررات 5 متفق علیہ 2



8 - فضائل قرآن کا بیان : (120)

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں



رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ اللہ تعالی اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے (یعنی اسے خوش رکھے) جس نے ہم سے کوئی چیز (بات) سنی اور پھر بالکل اسی طرح دوسروں تک پہنچا دی جس طرح سنی تھی





'Amir b. Wathila reported that Nafi' b. 'Abd al-Harith met 'Umar at 'Usfan and 'Umar had employed him as collector in Mecca. He (Hadrat 'Umar) said to him (Nafi'): Whom have you appointed as collector over the people of the valley? He said: Ibn Abza. He said: Who is Ibn Abza? He said: He is one of our freed slaves. He (Hadrat 'Umar) said: So you have appointed a freed slave over them. He said: He is well versed In the Book of Allah. the Exalted and Great, and he is well versed In the commandments and injunctions (of the Shari'ah). 'Umar said: So the Holy Prophet (may peace be upon him) said: By this Book, Allah would exalt some peoples and degrade others.