Thursday, December 10, 2015

پانچ نمازیں اور جمعہ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَی الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَاةُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَی الْجُمْعَةِ کَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْکَبَائِرُ

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 550 حدیث مرفوع مکررات 5 متفق علیہ 3
یحیی بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن ایوب، اسماعیل بن جعفر، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اپنے درمیانی اوقات میں سرزد ہونے والے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جب تک کبائر کا ارتکاب نہ کرے۔ 

Abu Hurairah reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: Five prayers and from one Friday prayer to (the 
next) Friday prayer is an expiation (of the sins committed in between their intervals) if major sins are not committed.
Sahih Muslim, Volume No. 1, Hadith No. 550

Wednesday, December 9, 2015

باجماعت نماز ادا کرنا

حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم صلاة الرجل في جماعة تزيد علی صلاته في بيته وصلاته في سوقه بضعا وعشرين درجة

سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 786     حدیث مرفوع     مکررات  27   متفق علیہ 8 
 ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مرد کا باجماعت نماز ادا کرنا گھر یا بازار میں (اکیلے) نماز ادا کرنے سے بیس سے کئی زیادہ درجے افضل ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah p.b.u.h said: A man's prayer in congregation is twenty-some
levels higher than his prayer in his house or in the marketplace.' "
(Sahih)
Sunan Ibne Maja, Volume 1, Hadith No. 786
-- 

Sunday, December 6, 2015

سُوۡرَةُ الشّوریٰ


سُوۡرَةُ الشّوریٰ
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

۞ شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحً۬ا وَٱلَّذِىٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهِۦۤ إِبۡرَٲهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓ‌ۖ أَنۡ أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُواْ فِيهِ‌ۚ كَبُرَ عَلَى ٱلۡمُشۡرِكِينَ مَا تَدۡعُوهُمۡ إِلَيۡهِ‌ۚ ٱللَّهُ يَجۡتَبِىٓ إِلَيۡهِ مَن يَشَآءُ وَيَہۡدِىٓ إِلَيۡهِ مَن يُنِيبُ (١٣) وَمَا تَفَرَّقُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَہُمۡ‌ۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ۬ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰٓ أَجَلٍ۬ مُّسَمًّ۬ى لَّقُضِىَ بَيۡنَہُمۡ‌ۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُواْ ٱلۡكِتَـٰبَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَفِى شَكٍّ۬ مِّنۡهُ مُرِيبٍ۬ (١٤) فَلِذَٲلِكَ فَٱدۡعُ‌ۖ وَٱسۡتَقِمۡ ڪَمَآ أُمِرۡتَ‌ۖ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡ‌ۖ وَقُلۡ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن ڪِتَـٰبٍ۬‌ۖ وَأُمِرۡتُ لِأَعۡدِلَ بَيۡنَكُمُ‌ۖ ٱللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمۡ‌ۖ لَنَآ أَعۡمَـٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَـٰلُڪُمۡ‌ۖ لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ‌ۖ ٱللَّهُ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا‌ۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ (١٥)

اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے۔ الله جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگزیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف رستہ دکھا دیتا ہے (۱۳) اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں)۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں (۱۴) تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (۱۵)
مولانا فتح محمد جالندری صاحب


He has ordained for you people the same religion as He had enjoined upon Nuh, and that which We have revealed to you (O prophet,) and that which We had enjoined upon Ibrahim and Musa and ‘Isa by saying, “Establish the religion, and be not divided therein.” Arduous for the mushriks (polytheists) is that to which you are inviting them. Allah chooses (and pulls) toward Himself anyone He wills, and guides to Himself anyone who turns to Him (to seek guidance). (13) And they were not divided, in jealousy with each other, but after the knowledge had come to them. Had it not been for a word that had come forth earlier from your Lord (and was effective) until a specified time, the matter would have been decided between them. 5 And those who were made to inherit the Book after them are in confounding doubt about it. (14) So, (O prophet,) towards that (faith) invite (people), and be steadfast as you are commanded, and do not follow their desires, and say, “I believe in whatever book Allah has sent down. And I have been ordered to do justice among you. Allah is our Lord and your Lord. For us are our deeds, and for you, your deeds. There is no argumentation between us and you. Allah will bring us together, and to Him is the final return.” (15)
Mufti Taqi Usmani Sahab


قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ